نئی دہلی، 2/جون(ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا) کانگریس پارلیمانی پارٹی کی میٹنگ میں سونیا گاندھی کو لیڈر منتخب کیے جانے کے بعد سے پارٹی جارحانہ نظر آرہی ہے۔ کانگریس نے مودی حکومت پر حملہ بولا ہے۔کانگریس کے ترجمان رندیپ سرجیوالا نے کہا کہ امریکی حکومت کی طرف سے ہندوستان کو خصوصی ٹریڈ اسٹیٹس 5 جون 2019 سے واپس لیا جانا خطرے کی گھنٹی ہے۔یہ اسٹیٹس 44 سال پہلے اندرا گاندھی کے وقت ملا تھا۔اس وجہ سے برآمدات متاثر ہوگا۔بے روزگاری عروج پر ہے۔جی ڈی پی پانچ سال میں نچلے پائیدان پر ہے۔ابھی برآمدات متاثر ہونے سے بے روزگاری اور بڑھے گی۔4 مارچ 2019 کو حکومت کو بتا دیا گیا تھا لیکن حکومت نے اس کو روکنے کے لئے ٹھوس قدم نہیں اٹھایا؟ وزیر اعظم اس مسئلے پر بیان دیں اور بتائیں کہ اس سنگین اقتصادی بحران سے ملک کونکالنے کے لئے کیا کرنے والے ہیں؟ کانگریس نے مودی حکومت پر آگے حملہ کرتے ہوئے کہا کہ حکومت نے پہلے دن ہی عام آدمی کو جھٹکا دے دیا۔بغیر سبسڈی والا سلنڈر 25 روپے، سبسڈی والے 1.23 روپے بڑھا دیے گئے۔پارٹی نے وزیر اعظم نریندر مودی سے مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ ’اجولا‘ فائدہ اٹھانے والوں کو ذہن میں رکھتے ہوئے یہ اضافہ واپس لیاجاناچاہیے۔اس سے پہلے کانگریس پارلیمانی پارٹی نے پھر سے سونیا گاندھی کو اپنا لیڈر منتخب کیا۔اس موقع پر سونیا گاندھی نے ووٹروں کا شکریہ ادا کیا اور راہل گاندھی کی تعریف کی۔وہیں کانگریس صدر راہل گاندھی نے اس موقع پر کہا تمام اراکین کو ایک بات یاد رکھنی چاہئے کہ ہم سب آئین اور ہر ہندوستانی کے لئے لڑ رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ہمارے پاس اب بھی 52 ایم پی ہیں اور ہم ہر روز بی جے پی سے لڑیں گے۔کانگریس صدر راہل گاندھی نے ہفتہ کو کہا کہ پارٹی کے ہر کارکن کو یہ یاد رکھنا چاہئے کہ وہ آئین اور ملک کے ہر شہری کے لئے لڑ رہا ہے۔کانگریس پارٹی کے مرکزی ترجمان رندیپ سرجیوالا کے مطابق راہل گاندھی نے کہاکہ کانگریس کے ہر کارکن کو یہ یاد رکھنا چاہئے کہ وہ اپنے آئین کے لئے لڑ رہے ہیں۔